29

سپریم کورٹ کا ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کو بری کرنے کا حکم

اسلام آباد: 

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈینیئل پرل قتل کے ملزمان کے رہائی کے خلاف سندھ حکومت کی اپیلوں پر سماعت کی۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے حساس معلومات سربمہر لفافے میں عدالت کو دیتے ہوئے کہا کہ احمد عمر شیخ کے کالعدم تنظیموں سے روابط ہیں، شواہد موجود ہیں لیکن ایسے نہیں کہ عدالت میں ثابت کر سکیں، ریاست کیخلاف جنگ کرنے والا ملک دشمن ہوتا ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جو مواد سپریم کورٹ کو دیا وہ پہلے کسی فورم پر پیش نہیں ہوا، جو معلومات کبھی ریکارڈ پر نہیں آئیں ان کا جائزہ کیسے لیں؟ ریاست کے پاس معلومات تھیں تو احمد عمر شیخ کیخلاف ملک دشمنی کا کیس کیوں نہیں چلایا؟۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے احمد عمر شیخ کو کبھی دشمن ایجنٹ قرار ہی نہیں دیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، یہ جنگ کب ختم ہوگی کوئی نہیں جانتا، شاید آئندہ نسلوں تک چلے، ریاست کا اپنے شہریوں کو ملک دشمن قرار دینا بھی خطرناک ہے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بنچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا اور سندھ حکومت کی اپیل خارج کردی۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے ملزمان کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کیں تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں